13

قومی احتساب بیورو کی طرف سے 153 ارب روپے کی ریکوری کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان میں انسدادِ بدعنوانی کا ادارہ قومی احتساب بیورو (نیب) گذشتہ چند روز سے خبروں میں ہے اور اس کی وجہ حال ہی میں جاری کیا جانے والا صدارتی آرڈیننس ہے جس کے ذریعے نیب قوانین میں چند ترامیم کی گئی ہیں۔

نیب کا بنیادی کام احتساب اور بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کو ریکور کرنا ہے۔

حال ہی میں نیب کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ موجودہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب نے گذشتہ 27 ماہ کے دوران بلاواسطہ یا بلواسطہ 153 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس اکتوبر کے آغاز میں نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ ریکور کی جانے والی رقم 71 ارب روپے ہے تاہم گذشتہ دو، تین ماہ کے دوران ریکوری کا دعویٰ 71 ارب سے بڑھ کر 153 ارب تک پہنچ چکا ہے اگرچہ نیب کے اپنے مرتب کردہ ریکارڈ سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوتی۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فارنزک آڈٹ سے ہی یہ حقیقت سامنے لائی جا سکتی ہے کہ دراصل نیب نے کتنی ریکوری کی ہے اور اس عرصے میں نیب نے سرکار کا کتنا پیسا خرچ کیا ہے۔

نیب کی ریکوری کا عمل کتنا حوصلہ افزا ہے؟

نیب کے سابق سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ نیب نے جو خود قومی خزانے میں پیسے جمع کرائے ہیں وہ بہت معمولی رقم بنتی ہے۔ اب اگر صحیح طور پر یہ دیکھنا ہو کہ کتنا پیسہ ریکور ہو کر قومی خزانے میں پہنچا ہے تو اس کے لیے ایک فارنزک آڈٹ کی ضرورت ہے۔

ان کے خیال میں مالیاتی امور کے ماہرین ہی اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک اور خاص طور پر جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے دور میں کتنے پیسے ریکور کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں ایڈووکیٹ شائستہ تبسم سلطان اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں۔ ۔

ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک یعنی سٹیٹ بینک آف پاکستان بھی نیب کے دعوے سے متعلق اس طرح کے حقائق کی چھان بین کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم وکلا بار میں بھی ریکوری دعوے پر بحث کرتے ہیں اور اکثر وکلا یہی کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ نیب کا حساب کتاب خراب ہو چکا ہے۔‘

عمران شفیق کے مطابق فارنزک آڈٹ میں یہ تفصیلات بھی منظرعام پر آ سکیں گی کہ نیب پر سرکار کا گذشتہ 20 برس میں کتنا خرچ ہوا اور نیب نے اپنی کارکردگی سے کتنی لوٹی ہوئی رقم ریکور کی ہے۔سابق پراسیکیوٹر کے مطابق نیب ایسی رقم کو بھی ریکوری میں ظاہر کرتا ہے جو ابھی ریکور ہونی ہوتی ہے۔ تاہم نیب ترجمان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

نیب کے ترجمان نوازش علی کے مطابق نیب جس رقم کا دعوی کرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ قومی خزانے میں جمع کرائی جا چکی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ جتنی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے اس کی انھیں باقاعدہ رسید دی جاتی ہے جس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ نیب کا ریکوری میں کردار تھا۔

شائستہ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ نیب زیادہ تر ریکوریاں اوسط درجے کے ملزمان سے کرتا ہے اور جو دوسرے اداروں کی کارکردگی ہوتی ہے اسے بھی اپنے کھاتے میں شامل کر لیتا ہے۔

اس سوال پر کہ نیب نے زیادہ رقم کس شعبے کے افراد سے حاصل کی ہے، نیب ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی تفریق نہیں ہوتی کسی ایک مقدمے میں زیادہ شعبوں کے لوگ بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں