10

پنجاب اسمبلی میں نیب ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرنے کی قرارداد جمع

اہور: نیب ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی، قرارداد (ن) لیگ کے رکن سمیع اللہ خان نے جمع کرائی۔

تفصیلات کے مطابق ن لیگ نے پنجاب اسمبلی میں نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف قرارداد جمع کرا دی، جس میں کہا گیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس وزرا اور سرکاری افسران کی کرپشن کو تحفظ دینے کی کوشش ہے، حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری بنا دیا ہے، اور پارلیمنٹ کو تالے لگا دیے ہیں۔

متن میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بے توقیر کر دیا ہے، آرڈیننس حکومت میں شامل نیب زدہ افراد کو شیلٹر فراہم کرنے کے لیے لایا گیا، سپریم کورٹ نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کو فوری معطل کرے، حکومت کوہدایت کی جائے کہ ایسے قوانین پارلیمنٹ سے منظور کرائے جائیں۔

ادھر رہنما پیپلز پارٹی سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے نیب آرڈیننس پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ نیب آرڈیننس مک مکا کی سیاست کی بدترین مثال ہے، نیب آرڈیننس نے عمران خان کی انتقامی سیاست کو بے نقاب کر دیا۔ حیدرآباد میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ثابت ہو گیا احتساب صرف اپوزیشن جماعتوں کا ہی ہوگا، اپوزیشن نے بدترین انتقام کے باوجود کوئی مک مکا کیا نہ کرے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئین پاکستان کے تحت تمام شہری یکساں ہیں، ترمیمی آرڈیننس غیر آئینی ہے اور یہ بنیادی حقوق کے منافی ہے، مذکورہ آرڈیننس کی کابینہ سے منظوری بھی غیر اصولی اور مشکوک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں