18

سیربین اختتام کو پہنچا مگر بی بی سی اردو پر خبروں کا سلسلہ جاری ہے

جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد الیاس منیر بی بی سی اردو کے ایک پرانے سامع ہیں۔

بی بی سی اردو ریڈیو کی اہم شخصیات اور رپورٹروں سے ان کی ایک جذباتی وابستگی رہی ہے اور کئی مشہور پروگراموں کے سلسلے انھیں یاد ہیں مگر وہ اب شارٹ ویو اور میڈیم ویو پر ریڈیو کے ذریعے اردو زبان میں بی بی سی کی عالمی خبریں، تجزیے اور تبصرے سننے سے محروم ہو جائیں گے۔

الیاس منیر کی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں ایسے سامعین ہیں جو نئے سال سے ریڈیو پر بی بی سی کا پروگرام سیربین نہیں سن سکیں گے۔

اس کی وجہ بی بی سی اردو کی شارٹ ویو اور میڈیم ویو پر ریڈیو نشریات کی بندش ہے اور روزانہ شب آٹھ بجے نشر ہونے والا مقبول عام پروگرام ’سیربین‘ آخری مرتبہ 31 دسمبر 2019 کو پیش کیا جائے گا۔

‘بی بی سی اردو سے آداب’

بی بی سی اردو سے کئی برس تک وابستہ رہنے والے سید راشد اشرف کہتے ہیں کہ اس سروس کو اپنے اہداف اور مقاصد کے لحاظ سے تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسری عالمی جنگ کا زمانہ، دوسرا برطانوی ادب اور ثقافت کے فروغ کا دور اور تیسرا صحافت کے آغاز کا دور۔

برطانوی ادارے برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے بی بی سی ہندوستانی سروس کے نام سے نشریات کا آغاز دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب نازی جرمنی نے انڈیا کے عوام کے لیے پروپیگنڈا شروع کر رکھا تھا۔

اس وقت اس سروس کے اہم ناموں میں ذوالفقار علی بخاری تھے۔ اسی دور کے بڑے ناموں میں آغا محمد اشرف ہیں جو خبروں کے انچارج تھے۔ اس کے علاوہ رفیق انور، مقبول حسین (جو بعد میں کمانڈر مقبول کے طور پاکستان بحریہ میں مشہور ہوئے۔ مشرف الحق، بلراج ساہنی، اوتار بقایا، اقبال بہادر سلیم بی اس دور کے بی بی سی انڈین سروس سے وابستہ رہے۔

بی بی سی اردو کا دوسرا دور: فن و ادب

تقسیم ہند کے بعد اس سروس کی نوعیت اور اس کے موضوعات میں بنیادی تبدیلی متعارف کرائی گئی تھی۔ سنہ 1949 سے پہلے تک جنگ یا جنگ سے متعلقہ خبروں کا سلسلہ جن میں دور افتادہ علاقوں میں تعینات فوجیوں کے پیغامات وغیرہ نشر ہوتے تھے۔

لیکن سنہ 1949 میں بڑی تبدیلی یہ آئی کہ ہندوستانی سروس سے بی بی سی اردو کے نام سے ایک سروس وجود میں آئی۔ تاہم اس برس کے بعد بی بی سی اردو کا مقصد صحافت کی بجائے برطانوی ادب اور ثقافت کو پیش کرنا رہ گیا۔ اس دوران بی بی سی اردو کی تاریخ کے چند معرکۃالآرا ڈرامے پیش کیے گئے۔

اس دور میں صدیق احمد صدیقی، امجد علی، اسلم لک، نور احمد چوہان، حفیظ جاوید، یاور عباس، عطیہ حبیب اللہ، امینہ احمد، اعجاز حسین بٹالوی (انھوں نے پیشۂِ وکالت میں بڑا نام کمایا، اور ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیا کے مارشل لا کے دور میں استغاثہ کے وکیل کی حیثیت سے تختۂِ دار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا)، ضیا محی الدین (انھوں نے بعد میں ہالی وڈ کی فلموں میں بھی کام کیا اور سنہ ستّر کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے ایک ٹاک شو ‘ضیا محی الدین شو’ پیش کیا)، سعید جعفری (بالی وُڈ فلم انڈسٹری کا بڑا نام رہے) بلراج ساہنی جیسے نامور فنکاروں نے اپنی آواز کے جادو سے اردو بولنے والوں کی دنیا پر راج کیا۔

اُسی دور کے بی بی سی کے سٹاف کے جن ارکان کو آج بھی پاکستان کے کچھ حلقوں میں جانا جاتا ہے ان میں اعجاز حسین بٹالوی کا نام ہے، منیب الرحمان عبدالحمید سیف، ضیا محی الدین، عطیہ حبیب اللہ، اور خالد حسن قادری شامل ہیں۔

اسی دور میں بی بی سی اردو سے حالت حاضرہ اور دیگر عمومی معاملات ہر بحث کے لیے ایک پروگرام ‘میزان’ کا آغاز ہوا جس میں کسی موضوع کی حمایت اور مخالفت پر تجزیہ کیا جاتا تھا۔ وقار احمد، منیب الرحمان اس پروگرام کے میزبان تھے اور اس میں اور فیض احمد فیض بھی گاہے بگاہے شرکت کرتے تھے۔

ڈاکٹر محمد اجمل (جو بعد میں گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی بنے) وہ بھی اُسی دور میں بی بی سی اردو سے وابستہ رہے۔

برطانوی ڈراموں، ادب اور ثقافت پر پروگراموں کا یہ سلسلہ سنہ 1965 تک اسی طرح برقرار رہا۔ یہ اس دور میں ایک بہت بڑی ٹیکنالوجکل تبدیلی آئی۔ ٹرانسسٹر ریڈیو بہت ہی چھوٹے سے سائز میں ایجاد کر لیا گیا تھا جو سستے داموں میں خریدے جاسکتے تھے۔

ٹرانسسٹر کی وجہ سے اس وقت ریڈیو کی نشریات گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ سنی جانے لگیں۔ اس وقت تک تو بی بی سی اردو کے ادبی پروگراموں کے سننے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد بن گئی۔

بی بی سی اردو کا صحافتی دور

لیکن جب بی بی سی اہنے اہداف اور مقاصد کے لحاظ سے جب تیسرے دور میں پہنچا تو یہ سال سنہ 1965 کا تھا۔ راشد اشرف جنھوں نے بی بی سی اردو کی تاریخ پر کافی کام کیا ہے، کہتے ہیں کہ اس تبدیلی کا سارا سہرا اطہر علی کے سر جاتا ہے۔

اس وقت تک خبروں میں بڑا موضوع کھیل ہوا کرتا تھا۔ لیکن اطہر علی نے دیگر عالمی موضوعات کے ساتھ پاکستان اور ہندوستان کی مقامی خبریں بھی بی بی سی اردو کے پروگرام میں نشر کرنا شروع کیں۔

یہی وہ دور تھا جب حالتِ حاضرہ کا پروگرام ‘سیربین’ سنہ 1968 میں تشکیل پایا۔ اس کے بعد صبح کی نشریات کے لیے ایک پروگرام ‘جہاں نما’ کے نام سے شروع ہوا، رات گئے سیربین کا اختصار ‘شب نامہ’ اور پھر کئی برسوں کے بعد، سنہ نوے کی دہائی میں، دوپہر کو اہم خبروں کا ایک بلیٹن ‘نیم روز’ کا بھی آغاز ہوا۔

سیربین سے وابستہ اُس زمانے کے معروف ناموں میں اطہر علی کے بعد راشد اشرف کا نام آتا ہے۔ سنہ 1969 میں اگرچہ صبح کا پروگرام ‘جہاں نما’ آصف جیلانی نے شروع کیا تھا لیکن یہ جلد ہی راشد اشرف کے حوالے کردیا اور انھوں نے اس کے لیے کئی برس تک مسلسل کام کیا۔

اس وقت سامعین کہتے تھے کہ جہاں نما نہ سنیں تو ان کی صبح ہی نہیں ہوتی تھی۔ بی بی سی میں صحافت کے بڑھتے ہوئے موضوعات کے دور میں شب نامہ بھی شروع ہوا تھا جس میں پہلی مرتبہ راشد اشرف نے نامہ نگاروں کے ٹیلی فون پر ریکارڈ کیے گئے اردو زبان میں مراسلوں کو نشر کرنا شروع کیا۔

سنہ 1965 کی جنگ اور لاہور پر قبضے کی خبر

سنہ پینسٹھ کی پاکستان اور انڈیا کی جنگ کی وجہ سے دونوں ملکوں میں رہنے والوں کے لیے غیر جانبدار خبروں کا ذریعہ بی بی سی قرار پایا۔

اگرچہ انڈیا کی فوجوں کے لاہور پہنچنے کے حوالے سے ایک خبر بی بی سو اردو سے منسوب کی جاتی ہے، تاہم ایسی خبر کبھی نشر نہیں ہوئی تھی۔

راشد اشرف بتاتے ہیں کہ سنہ پینسٹھ کی جنگ کے وقت وہ لاہور میں برٹش کونسل سے وابستہ تھے۔ ان کا کام ریڈیو کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا تھا۔ انھوں نے اُسی دوران عام لوگوں سے یہ سنا کہ بی بی سی نے انڈین فوجوں کے لاہور پر قبضے کی جھوٹی خبر نشر کی ہے۔

خبروں کا سلسلہ جاری ہے

لیکن سوال یہ ہے کیا الیاس منیر اور ان جیسے سامعین کو اب بی بی سی اردو کی خبروں تک رسائی نہیں مل سکے گی؟ ایسا بالکل نہیں، بلکہ سامعین کے لیے خبروں تک رسائی اب اور بھی زیادہ بہتر ہو جائے گی۔

ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو مرد ہوں یا خواتین، بوڑھے ہوں یا بچے سمارٹ فون تھامے ملیں گے جس کے اندر ایک ریڈیو بھی موجود ہے۔

ممکن ہے کہ آپ سوچیں کہ سمارٹ فونز تو صرف متمول طبقے کے پاس ہوتے ہیں، کم آمدن والا کیا کرے لیکن اگر آپ غور کریں تو اس معاملے میں امیر اور غریب کا بھی فرق نظر نہیں آتا۔

بی بی سی اردو نے اب ذرائع ابلاغ کے اس نئے دور میں بھی قائدانہ کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اسی لیے اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سامعین، قارائین اور ناظرین تک خبریں پہنچانے کا سلسلہ نئے انداز سے شروع کر چکا ہے۔

تیزی سے ہونے والی ترقی کے ان منازل کی وجہ ایجادات ہیں، اور یہ ایجادات انسانی علم، تخلیق کی وجہ سے ظہور میں آئیں۔ اور پھر ان سب نے آزادئِ فکر کو مزید پنپنے کا ایک نیا اور پہلے سے بہتر ماحول دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں