19

عالمی جوہری معاہدہ: ایران کا یورینیم افزودگی جاری رکھنے اور جوہری معاہدے کی مزید پاسداری نہ کرنے کا اعلان

ایران نے سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت عائد کردہ پابندیوں کی مزید پاسداری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت، مقدار، افزودہ کی گئی یورینیم کے ذخیرے، تحقیق اور پیداوار پر عائد حدود کی مزید پاسداری نہیں کی جائے گی۔

یہ فیصلہ تہران میں ہوئی ایرانی کابینہ کی میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔

گذشتہ جمعے کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی افواج کے ڈرون حملے میں قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی اپنے عروج کو چھو رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران بغیر کسی حد کے اور اپنی تیکنیکی ضروریات پوری کرنے کے لیے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔

ایران کی جانب سے واضح الفاظ میں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ سنہ 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے البتہ یہ ضرور کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگراں ایجنسی، آئی اے ای اے، کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران ایک بار معاہدے کے ثمرات سے فائدہ حاصل کرنے کے بعد اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار ہو گا۔

سنہ 2015 میں ہوئے جوہری معاہدے کے تحت ایران اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر رضامند ہوا تھا۔ شدید ترین معاشی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے ایران نے بین الاقوامی انسپیکٹرز کو جوہری پروگرام تک رسائی دینے پر بھی اتفاق کیا تھا

تاہم سنہ 2018 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نئے جوہری معاہدے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر لامحدود پابندیاں لگائی جائیں گی جبکہ بلیسٹک میزائلز کی تیاری کو مکمل طور پر روکا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں