18

بغداد: ملیشیا اڈوں پر حملے کے بعد کتائب حزب اللہ سمیت ایران نواز گروہوں کا امریکی سفارت خانے پر دھاوا

عراق کے شہر بغداد میں منگل کو ہزاروں مظاہرین اور ملیشیا کے جنگجوؤں نے امریکی سفارتخانے کے باہر جمع ہو کر پرتشدد احتجاج کیا اور اطلاعات کے مطابق مظاہرین سفارت خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ جب مظاہرین نے سفارت خانے کی بیرونی دیوار عبور کی تو اندر تعینات امریکی فوجیوں نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس کے علاوہ ایک گارڈ ٹاور کو بھی بظاہر نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔

روئٹرز نے عراقی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بغداد میں امریکی سفیر اور سفارتی عملے کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

مظاہرین اتوار کو عراق اور شام کی سرحد کے قریب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

امریکی افواج نے یہ حملہ ایک عراقی فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کے ردِعمل میں کیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق کے وزیرِ اعظم عبدالمہدی کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی گئی ہے جس میں 25 جنگجو ہلاک اور 55 زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان عراق میں پراکسی جنگ کا خطرہ مزید واضح ہوگیا ہے۔

ان مظاہرین میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے رہنما قیس الخزالی اور کئی دیگر سینیئر ملیشیا رہنما بھی موجود تھے جبکہ عمارت کے گرد موجود باڑ پر کتائب حزب اللہ کے پرچم آویزاں کر دیے گئے۔

یاد رہے کہ عراق میں کئی ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جو بسا اوقات پرتشدد بھی ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں